اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق النصرہ کے دہشت گردوں نے حمص کے نواح میں اس شہر پر حملہ کرکے در حقیقت القلمون کی اگلی اور اہم لڑائی کے لئے اس کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنانے کا تہیہ کیا ہوا تھا اور اس شہر کے عوام کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے تھے۔ العالم کی نامہ نگار محترمہ "رؤی العلی" نے صدد شہر سے رپورٹ دی ہے کہ اس شہر پر قابض دہشت گرد وہی لوگ ہیں جنہوں نے معلولا شہر کے عیسائیوں پر حملہ کرکے ان کے مقدسات کی بےحرمتی کی تھی اور اب وہ صدد شہر پر حملہ آور ہوئے تھے جو شمال میں القلمون سے ملا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جبہۃالنصرہ کے دو ہزار دہشت گردوں نے تین محاذوں سے 30 مسلح گاڑیوں سے استفادہ کرکے 15 ہزار افراد کے اس شہر پر قبضہ کیا تھا اور اس شہر کے بعض باشندے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ سرکاری افواج کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دہشت گرد اس شہر سے اپنے ہیڈکوارٹر کے طور پر فائدہ لینا چاہتے تھے اور القلمون کی لڑائی کے لئے تیاریوں کے سلسلے میں یہاں اپنی افراد قوت مجتمع کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ القلمون کی فیصلہ کن لڑائی عنقریب شروع ہونے والی ہے جس کے لئے فوج بھی تیاریاں کررہی ہے اور آل سعود کے حمایت یافتہ دہشت گرد بھی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ آل سعود کے انٹیلجنس چیف بندر بن سلطان نے حال ہیں میں حزب اللہ کے لئے ایک دھمکی آمیز خط بھجوا کر کہا تھا کہ اگر اس نے القلمون کی لڑائی میں شامی افواج کی مدد کی تو وہ بیروت سے طرابلس تک کے تمام لبنانی شہروں کو نذر آتش کرے گا!۔ اس رپورٹ کے مطابق شامی فوجی دستے بھی کئی محاذوں سے شہر صدد میں داخل ہوئی اور شہر کے بڑے حصے میں دہشت گردوں کا صفایا کردیا ہے اور اس شہر کے بھاگنے والے باشندے اتوار کے روز اپنے گھروں کو لوٹ سکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ صدد شہر کے مغربی اور شمالی علاقوں میں دہشت گردوں اور فوجی اہلکاروں کے درمیان اکا دکا جھڑپیں جاری ہیں اور فوجی دستے فرار ہونے والے دہشت گردوں کے تعاقب میں مصروف ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
26 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 475801
حمص کے جنوب میں واقع صدد نامی شہر کو النصرہ کے دہشت گردوں سے آزاد کرایا گیا ہے۔ اس شہر میں دہشت گردوں نے مقامی لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔